یوکرائن کے مشرق میں فائربندی خاتمے کے قریب
8 ستمبر 2014
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعے کے روز کییف حکومت اور باغیوں نے بیلا روس کے دارالحکومت مِنسک میں فائربندی معاہدے پر دستخط کیے تھے، تاہم اس کے بعد بھی وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔
ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب سے ان جھڑپوں میں ایک مرتبہ پھر شدت دیکھی جا رہی ہے خدشات ہیں کہ یہ فائربندی معاہدہ ٹوٹ سکتا ہے۔
فریقین کے درمیان یہ معاہدہ روس اور یورپی تنظیم برائے سلامتی و تعاون کے موجودگی میں ہوا تھا۔ اس معاہدے کا مقصد گزشتہ پانچ ماہ سے جاری اس مسلح تنازعے کا خاتمہ تھا، جس کی وجہ سے اب تک تقریباﹰ تین ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ سردجنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ روس اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔
روئٹرز کے مطابق فریقین کے درمیان شیلنگ کا سلسلہ ماریوپول کے علاقے میں جاری ہے جب کہ اتوار کے روز روسی صدر ولادیمر پوٹن اور ان کے یوکرائنی ہم منصب پیٹرو پوروشینکو نے ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت میں اس فائربندی معاہدے کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
روئٹرز کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز باغیوں کے زیرقبضہ علاقے ڈونیٹسک کے شمالی علاقے میں بھی فریقین کے درمیان جھڑپیں ہوئی۔ روئٹرز نے علاقے میں موجود اپنے ایک رپورٹر کے حوالے سے بتایا ہے کہ مقامی ایئرپورٹ کے قریب دھوئیں کے سیاہ بادل دیکھے گئے۔
روئٹرز کے مطابق بعد میں ان دونوں شہروں میں اتوار کا سارا دن خاموشی چھائی رہی تاہم شام کو ایک مرتبہ پھر متعدد مارٹر دھماکے سنے گئے۔ ان مارٹر حملوں کے نتیجے میں ڈونیٹسک میں ایک پل تباہ ہو گیا۔
واضح رہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں باغیوں اور حکومتی ملیشیا پر جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اس کے علاوہ اس رپورٹ میں جاری کردہ تصاویر میں مشرقی یوکرائن میں روسی جنگی گاڑیاں اور توپیں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔