یوکرائن: یورپی یونین کا روس کے خلاف پابندیوں پر غور
6 مارچ 2014
یہ بات یوکرائن کے بحران کے موضوع پر آج برسلز میں ہونے والی یورپی یونین کی ایک ہنگامی سربراہی کانفرنس میں کہی گئی۔ برسلز میں 28 ملکی یورپی یونین کے اس ہنگامی سربراہی اجلاس نے یوکرائن کے بحران کے حوالے سے روس کو ایک واضح پیغام دینے کی کوشش کی۔
آج قبل از دوپہر جب برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون برسلز میں یونین کے ہیڈ کوارٹرز پہنچے تو انہوں نے کھل کر کہا کہ یورپی رہنماؤں کو روس کو واضح طور پر یہ پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ جو کچھ ہوا ہے، وہ ناقابل قبول ہے اور اس کے نتائج بھی نکلیں گے۔
لیکن دوسری طرف یورپی سربراہان مملکت و حکومت کے اسی اجلاس میں شرکاء کی رائے منقسم بھی دیکھی گئی۔ یہ تقسیم یونین کے رکن ایسے ملکوں کے درمیان دیکھی گئی جو جغرافیائی طور پر روس کے قریب ہیں اور وہ مغربی یورپی ملک جو بڑی اقتصادی طاقتیں ہیں۔ مثال کے طور پر جرمنی اور اقتصادی طور پر اہم چند دیگر مغربی یورپی ریاستوں نے کھلے تصادم سے بچتے ہوئے زیادہ مصالحت پسندانہ رویہ اپنایا۔
اس دوران وفاقی جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے یورپی سربراہی کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’آیا کوئی پابندیاں لگائی جائیں گی، اس بات کا انحصار اس امر پر ہو گا کہ موجودہ سفارتکاری کے کیا نتائج نکلتے ہیں۔‘‘ سفارتی عمل سے جرمن سربراہ حکومت کی مراد یہ بھی تھی کہ آج جمعرات ہی کے روز اطالوی دارالحکومت روم میں وزرائے خارجہ کی سطح کے مذاکرات بھی ہو رہے ہیں، جن میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف بھی شامل ہیں۔
برسلز کی یورپی سمٹ میں روس کے قریب ہی واقع یونین کے رکن ملکوں کے رہنماؤں کی طرف سے کس طرح کا موقف ظاہر کیا گیا، اس کا اندازہ لیتھوانیا کی خاتون صدر کی رائے سے اچھی طرح لگایا جا سکتا ہے۔ لیتھوانیا کی صدر ڈالیا گریباؤسکائٹے نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا، ’’آج کا روس خطرناک ہے۔ یوکرائن کے بعد مالدووا کی باری ہو گی اور مالدووا کے بعد دوسرے ملکوں کی۔‘‘
خبر ایجنسی روئٹرز نے برسلز سے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ یوکرائن کے بحران میں روس کے کردار کی وجہ سے یورپی یونین ماسکو کے خلاف ابتدائی طور پر جو پابندیاں لگا سکتی ہے، ان میں یہ بھی شامل ہو سکتا ہے کہ یونین روس کے ساتھ ایک اقتصادی معاہدے اور ویزا قوانین میں نرمی سے متعلق وہ مذاکرات معطل کر دے جو اس وقت جاری ہیں۔
زیادہ سخت فیصلے یہ ہو سکتے ہیں کہ اعلیٰ روسی حکام پر سفری پابندیاں عائد کر دی جائیں اور ان کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں۔ لیکن روس مخالف ایسی سخت پابندیوں کی کوشش یا ان پر اتفاق رائے کا امکان بہت ہی کم ہے۔ اس کا سبب یہ بھی ہے کہ یونین کے رکن ملکوں کے ساتھ روس کے اقتصادی تعلقات اتنے گہرے اور اہم ہیں کہ انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اسی پس منظر میں امریکا بھی روس کے خلاف متعدد اقدامات کی دھمکی دے چکا ہے اور واشنگٹن سرمایہ کاری سے متعلق ماسکو کے ساتھ ایک دوطرفہ معاہدے کے بارے میں بات چیت بھی معطل کر چکا ہے۔