1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یوکرائن: یورپی یونین کی ہنگامی سمٹ ایک کامیابی

بیرنڈ ریگرٹ / مقبول ملک7 مارچ 2014

یوکرائن کے بحران سے متعلق یورپی یونین کی جمعرات کو برسلز منعقدہ ہنگامی سمٹ کو واضح کامیابی کہا جا سکتا ہے لیکن ڈوئچے ویلے کےتبصرہ نگار بیرنڈ ریگرٹ کے مطابق سوال یہ ہے کہ آیا اس کامیابی سے روس پر اثر انداز ہوا جا سکتا ہے؟

تصویر: picture-alliance/dpa

یوکرائن سے متعلق اپنے ہنگامی سربراہی اجلاس میں یورپی یونین کے رکن ملکوں نے اپنی آواز مل کر بلند کی اور اس مشترکہ موقف کو کامیابی ہی کا نام دیا جا سکتا ہے۔ یونین کی رکن وسطی اور مشرقی یورپ کی وہ ریاستیں، جو ماضی میں سوویت یونین کا حصہ یا اس کی اتحادی تھیں یا پھر جغرافیائی طور پر یوکرائن سے دور نہیں ہیں، ان ریاستوں کی خواہش تھی کہ روس کے بارے میں زیادہ سخت موقف اپنایا جائے۔

دوسری طرف جرمنی اور برطانیہ جیسے ملکوں نے روس کو دی جانے والی یورپی یونین کی طرف سے پابندیوں کی دھمکی کی حمایت تو کی لیکن دانت پیستے ہوئے۔ یورپی سمٹ کا نتیجہ ایک ایسے فیصلے کی صورت میں نکلا جو درمیان کا راستہ تھا۔ سمٹ کے فیصلے میں روس کو یوکرائن اور اس کے جزیرہ نما کریمیا کے حوالے سے کوئی ٹھوس الٹی میٹم نہیں دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سفارت کاری کے لیے کافی جگہ چھوڑی گئی ہے اور یہ اچھی بات ہے۔

ڈوئچے ویلے کے نامہ نگار بیرنڈ ریگرٹ نے اس بارے میں برسلز سے اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ یورپی یونین جس مقصد کو حاصل کرنا چاہتی ہے، وہ ابھی بھی اس کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اس کے سامنے ہے۔ یہ مقصد ہے یوکرائن کی جغرافیائی وحدت کا قائم رہنا، روس کو یوکرائن اور اس کے جزیرہ نما کریمیا سے انخلاء پر آمادہ کرنا اور کسی بھی صورت میں اس آخری حد تک نہ جانا جہاں فوجی سطح پر آمنا سامنا حقیقت بن جائے۔

روسی صدر پوٹنتصویر: Reuters/Alexei Druzhinin/RIA Novosti

ڈی ڈبلیو کے تبصرہ نگار کی رائے میں ان مقاصد کا حصول صرف اسی وقت ممکن ہے، جب یوکرائن کے تنازعے کے حل کے لیے یورپی یونین اور امریکا مل کر کوششیں کریں اور ان کا موقف ایک ہو۔ لیکن دوسری طرف اس بارے میں شبہات بھی اپنی جگہ ہیں کہ آیا ایسی کوئی مشترکہ کوششیں ابھی بھی ممکن ہیں اور آیا وہ کامیاب بھی ہو سکیں گی۔ اس شبے کی بنیاد یہ حقیقت ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما ابتدائی طور پر یوکرائن کے بحران کے باعث روس پر ایسی پابندیاں عائد کر بھی چکے ہیں جن پر یورپی یونین ابھی تک غور و فکر کر رہی ہے۔

بیرنڈ ریگرٹ لکھتے ہیں کہ یورپی یونین نے روس کے ساتھ کھچاؤ کی وجہ بننے والا جو پہلا مرحلہ عبور کیا ہے، وہ بظاہر روس اور صدر پوٹن کو لچکدار رویہ اپنانے پر مجبور کرنے کے لیے کافی نہیں ہو گا۔ ولادیمیر پوٹن کے پاس جتنے بھی امکانات ہیں، ان کی فہرست جلد ختم ہونے والی نہیں ہے۔ یہ بات پوٹن نے برسلز میں جمع یورپی رہنماؤں کو اسی وقت باور کرا دی تھی جب وہ اس بحران سے متعلق مشاورت کر رہے تھے۔

یہ پیش رفت روسی پارلیمان کا یہ فیصلہ تھا کہ یوکرائن کے جو علاقے اس ملک سے علیحدہ ہونا چاہیں، روس میں شمولیت یا الحاق کا خواہش مند ہونے کی صورت میں ان کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں گی۔

بیرنڈ ریگرٹ کہتے ہیں کہ یورپ کو ایک سپر سمٹ کے لیے روسی صدر پوٹن کو دعوت دینا چاہیے تاکہ یوکرائن کے مستقبل اور کریمیا کے بحران پر براہ راست فیصلہ کن بات کی جا سکے اور زیادہ برے نتائج کو روکا جا سکے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں