1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتیورپ

یوکرینی جنگ: ژاپوریژیا جوہری پاور پلانٹ دھماکوں سے لرز اٹھا

20 نومبر 2022

ماسکو اور کییف اس جوہری بجلی گھر پر حملے کا الزام ایک دوسرے پر لگا رہے ہیں۔ آئی اے ای اے نے اس حملے کی رپورٹوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’آگ سے کھیلنے‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔

Ukraine-Krieg I  Zaporizhzhia Atomkraftwerk
تصویر: Stringer/AA/picture alliance

روسی یوکرینی جنگ کے دوران یوکرین میں یورپ کا سب سے بڑا جوہری بجلی گھر آج اتوار 20 نومبر کے روز زوردار دھماکوں سے لرز اٹھا۔ ژاپوریژیا کا یہ یوکرینی نیوکلیئر پلانٹ روسی فوج کے قبضے میں ہے۔کییف میں یوکرینی حکومت نے کہا ہے کہ وہاں بارہ زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور یہ کہ اس پلانٹ پر گولہ باری روس نے کی۔ روس نے جواباﹰ اس گولہ باری کا الزام  یوکرین پر لگایا ہے۔

ژاپوریژیا میں روسی میزائل حملہ، تیئیس یوکرینی شہری مارے گئے

روس نے یوکرین پر حملے کے فوراً بعد ژاپوریژیا کے جوہری پلانٹ پر قبضہ کر لیا تھاتصویر: Alexander Ermochenko/REUTERS

ویانا میں جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے نے اس صورتحال پر گہری تشویش کے ساتھ خبردار کیا ہے کہ اس نیوکلیئر پاورپلانٹ پر شیلنگ 'آگ سے کھیلنے‘ کے مترادف ہے۔ اقوام متحدہ کے اس ادارے کے سربراہ نے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حملے کسی بھی وقت ایک بہت بڑی جوہری تباہی کی وجہ بن سکتے ہیں۔

دوسری طرف جوہری توانائی کے یوکرینی ادارے نے بھی کہا ہے کہ ژاپوریژیا کے اس ایٹمی پلانٹ پر شیلنگ روس نے کی۔

ویانا میں جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’جو کوئی بھی اس کے پیچھے ہے، اسے فوری طور پر رک جانا چاہیے۔‘‘

زاپوریژیا جوہری پلانٹ کے گرد حفاظتی زون قائم کیا جائے، گوٹیرش

انہوں نے ایک بار پھر روس اور یوکرین سے اپیل کی کہ وہ اس پلانٹ کے ارد گرد ایک 'سیفٹی زون‘ قائم کرنے پر اتفاق کریں۔ اس کے لیے ماسکو اور کییف میں حکومتوں کو اس جوہری پلانٹ کے اندر اور اس کے ارد گرد فوجی کارروائیاں روکنے کی ضرورت ہو گی۔

آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ نیوکلیئر پاورپلانٹ پر شیلنگ 'آگ سے کھیلنے‘ کے مترادف ہےتصویر: Vladyslav MusiLienko/REUTERS

ماسکو میں روسی وزارت دفاع نے اتوار کے روز یوکرینی فوج کی جانب سے ژاپوریژیا  کے ارد گرد کے علاقے پر گولہ باری کا الزام لگایا ۔ اس روسی وزارت نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یوکرین 'اپنی اشتعال انگیزی سے باز نہیں آ رہا، جس کا مقصد ژاپوریژیا  نیوکلیئر پاور پلانٹ میں انسانوں کی پیدا کردہ تباہی کے خطرے کو جنم دینا ہے‘۔

روس زاپوریژیا جوہری پلانٹ کے آزادانہ معائنے پر رضامند

روسی وزارت دفاع کے اس بیان کے جواب میں یوکرین کے جوہری توانائی کی ادارے نے اس گولہ باری کا الزام روسی فوج پر لگایا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام  پر اپنی ایک پوسٹ میں اس ادارے نے کہا، ''حملہ آوروں نے بالکل اسی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا اور اسے غیر فعال کر دیا، جو پانچویں اور چھٹے نمبر کے پاور یونٹوں کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے ضروری تھا۔‘‘ بیان کے مطابق یہ یونٹ یوکرین کی قومی ضروریات کے لیے بجلی کی پیداوار کو بحال رکھنے کے لیے ضروری تھے۔

اقوام متحدہ بارہا روسی اور یوکرینی فوج کو خبردار کر چکے ہیں ک وہ جوہری پلانٹ کے ارد گرد کے علاقے میں شیلنگ نہ کریںتصویر: REUTERS

دریں اثنا روسی نیوکلیئر پاور آپریٹر کمپنی کے سربراہ کے ایک مشیر  نے ملکی نیوز ایجنسی تاس کو بتایا کہ یہ گولہ باری پلانٹ میں قائم  خشک جوہری فضلہ ذخیرہ کرنے کی سہولت اور ایک ایسی عمارت کے نزدیک کی گئی،  جس میں تازہ استعمال شدہ جوہری فاضل مادہ رکھا گیا تھا۔ تاہم اس روسی مشیر کے بقول گولہ باری کے باوجود ان جگہوں پر  کسی تابکاری کے اخراج کا آخری اطلاعات ملنے تک کوئی ثبوت نہیں ملا۔

زاپوریژیا جوہری پلانٹ اور درجنوں یوکرینی قصبوں پر روسی گولہ باری

روس نے یوکرین پر حملے کے فوراً بعد ژاپوریژیا کے جوہری پلانٹ پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد سے یہ انتہائی حساس تنصیب کئی بار گولہ باری کی زد میں آ چکی  ہے۔ کییف اور ماسکو ان حملوں کے لیے  ایک دوسرے پر الزامات لگاتے آئے ہیں۔

اس سال چوبیس فروری کے روز روس کی طرف سے فوجی حملے سے پہلے تک یوکرین اپنی بجلی کی مجموعی ضروریات کا تقریباً پانچواں حصہ اس جوہری پلانٹ سے حاصل کر رہا تھا۔  تاہم  گولہ باری اور حملوں کے دوران اس پلانٹ کو کئی بار بیک اپ جنریٹرز پر کام کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

ش ر⁄ م م (ایجنیساں)

روسی جنگی ہیلی کاپٹروں کی یوکرینی فوجی تنصیبات پر بمباری

01:35

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں