یہودی عجائب گھر پر حملے کا شبہ، فرانسیسی مسلمان گرفتار
1 جون 2014
چوبیس مئی کو پیش آنے والے اس واقعے میں جو تین افراد موقع پر ہلاک ہوئے، اُن میں ایک اسرائیلی جوڑے کے ساتھ ساتھ ایک فرانسیسی خاتون بھی شامل تھی۔ چوتھا شخص عجائب گھر کا ایک چوبیس سالہ ملازم تھا۔ بیلیجیم کا یہ شہری گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہو گیا تھا اور اُسے بعد ازاں ’طبّی اعتبار سے مردہ‘ قرار دے دیا گیا تھا۔
فرانس کے تحقیقاتی اداروں نے بتایا ہے کہ عجائب گھر پر فائرنگ کے اس واقعے میں ملوث ہونے کے شبے میں 29 سالہ مہدی نینموش کو جمعہ تیس مئی کو جنوبی فرانس کے شہر مارسے سے گرفتار کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ گرفتاری کے وقت نینموش کے قبضے سے ایک کلاشنکوف کے ساتھ ساتھ ایک ایسی ہینڈ گن بھی برآمد ہوئی، جو کہ برسلز کے یہودی عجائب گھر میں ہونے والی فائرنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیار سے ملتی جلتی تھی۔ ایک عدالتی ذریعے نے بتایا ہے کہ مہدی نینموش کو قتل، قاتلانہ حملے کی کوشش اور ایک دہشت گرد تنظیم کے ساتھ تعلق کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔
بیلجیم کے وفاقی دفتر استغاثہ نے بھی اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے ایک ترجمان کا کہنا تھا:’’مَیں ایک مشتبہ شخص کی گرفتاری کی تصدیق کرتا ہوں۔‘‘ اس واقعے کے حوالے سے آج اتوار کی سہ پہر بیک وقت برسلز اور پیرس میں پریس کانفرنسوں کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے۔
حکام نے عجائب گھر کے سکیورٹی کیمروں سے لی گئی فوٹیج جاری کی تھی، جس میں ٹوپی اور دھوپ کا سیاہ چشمہ پہنے ایک شخص کو دیکھا جا سکتا تھا، جو عجائب گھر میں داخل ہونے کے بعد اپنے بیگ میں سے رائفل نکال کر فائرنگ کرتا اور پھر باہر نکل جاتا ہے۔ بیلجیم کے ذرائع ابلاغ نے بتایا تھا کہ اس واقعے کے دوران حملہ آور نے اپنے کیمرے کی مدد سے ویسے ہی اپنی کارروائی کی ایک فلم بھی بنائی، جیسے دو سال پہلے ایک فرانسیسی مسلمان شہری محمد میراہ نے بنائی تھی، جس نے فرانسیسی شہر تولوز میں متعدد یہودیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
فرانس کے کسٹمز حکام نے نینموش کو مارسے کے ایک بس اسٹیشن سے گرفتار کیا۔ وہ برسلز کے راستے ایمسٹرڈم سے آنے والی ایک بس پر سوار تھا۔ اُس کے پاس سے ایک خود کار کلاشنکوف اور گولہ بارود کے علاوہ ایک منی ایچر ویڈیو کیمرہ بھی برآمد ہوا۔
بتایا گیا ہے کہ فرانس کے انٹیلیجنس ذرائع، جو اب نینموش سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں، اُس سے پہلے سے واقف تھے اور انہیں علم تھا کہ 2013ء میں یہ مسلمان شہری شام میں جاری لڑائی میں بھی انتہا پسندوں کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے گیا تھا۔
فرانس کا انٹیلیجنس ادارہ DGSI نینموش سے 96 گھنٹے تک یعنی آئندہ منگل تک پوچھ گچھ کر سکتا ہے جبکہ اُس کی طرف سے دہشت گردی کے خطرے کی صورت میں اُسے 144 گھنٹے یعنی آئندہ جمعرات تک حراست میں رکھ کر تفتیش کی جا سکتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ابتدائی چوبیس گھنٹے کی پوچھ گچھ میں نینموش نے چُپ سادھے رکھی ہے۔
بیلجیم میں کوئی چالیس ہزار یہودی آباد ہیں اور گزشتہ تیس برسوں میں پیش آنے والے اس ہولناک واقعے نے یورپ میں یہودی دشمنی کے خطرات کو ایک بار پھر عیاں کر دیا ہے۔