1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

1972 کے بعد انسان دوبارہ چاند پر کیوں نہیں گیا؟

عاطف توقیر | ادارت | شکور رحیم
14 دسمبر 2025

انسان نے آج سے باون برس قبل آخری بار چاند پر قدم رکھا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کوئی انسان کیوں کبھی چاند پر نہیں اترا اور کیا آئندہ انسانی مشن روانہ کیے جائیں گے؟

NASA-Apollo Mission auf Mond
تصویر: NASA/Neil A. Armstrong/Cover Images/picture alliance

14 دسمبر 1972 کو انسان نے آخری بار چاند کی سطح پر قدم رکھا۔ ناسا کے مشہور اپالو 17 مشن کے خلاباز جین سرنان اور ہیریسن شمٹ وہ اب تک کے آخری انسان تھے، جنہوں نے چاند پر آخری بات چہل قدمی کی۔ اس دن کے بعد نصف صدی سے زیادہ وقت گزر چکا ہے، مگر انسانی قدم  دوبارہ چاند کی مٹی کو اپنے قدموں سے نہیں چھو سکے۔ یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ جب انسان 1969 میں چاند پر پہنچنے کی صلاحیت رکھتا تھا تو پھر 1972 کے بعد اتنا طویل وقفہ کیوں آیا؟

برطانوی سائنسی جریدرے رائل میوزیم گرین وچ کے مطابق چاند پر انسانی مشن رک جانے کی سب سے بنیادی وجہ یہ رہی کہ1970 کی دہائی کے آغاز تک امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے دور میں خلائی برتری کی دوڑ زوروں پر تھی۔ چاند پر قدم رکھنا صرف ایک سائنسی کامیابی ہی نہیں تھا بلکہ عالمی سیاست میں برتری کا اعلان بھی تھا۔

اپالو سترہ چاند پر آخری انسانی چہل قدمی کا ذریعہ بناتصویر: NASA

جیسے ہی امریکہ اس دوڑ میں کامیاب ہوا، سیاسی ضرورت نے اپنا زور کھو دیا۔ حکومتوں نے یہ سمجھا کہ چاند پر دوبارہ جانے سے اس طرح کی کوئی اضافی سیاسی یا اسٹریٹجک جیت حاصل نہیں ہوگی، لہٰذا اس مہنگے منصوبے کو جاری رکھنے کی وجہ باقی نہ رہی۔

چاند پر انسان بھیجنے کے اخراجات بے پناہ تھے۔ اپالو پروگرام پرآج کے حساب سے تقریباً دو سو ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ اتنی خطیر رقم کے بعد امریکی حکومت نے اپنے بجٹ کو دیگر مسائل کی طرف موڑ دیا، ویتنام کی جنگ، معاشی بحران، مہنگائی اور اندرونی سیاسی تناؤ نے خلا کے بجائے زمین کو ترجیح دلوا دی۔ اس کے نتیجے میں چاند کے لیے نئے منظم مشنز پس منظر میں چلے گئے۔

سیاسی ضرورت نہ سہی مگر سائنس؟

اس دوران سائنسی برادری نے بھی یہ محسوس کیا کہ تحقیق کے لیےانسان کا چاند تک پہنچنا ناگزیر نہیں رہا۔ روبوٹک مشنز کم خرچ، کم خطرناک اور زیادہ مؤثر ثابت ہو رہے تھے۔ بغیر انسان بھیجے بھی چاند کی سطح، اس کی ساخت اور اس کے معدنی خزانوں کے بارے میں گہری معلومات حاصل کی جا رہی تھیں۔ جب ایسے میں یہ سوچ غالب رہی کہ ایک سستا طریقہ موجود ہے تو پرخطر اور مہنگا راستہ کیوں اختیار کیا جائے؟

انسان اب زیادہ تر روبوٹس کی مدد سے تحقیق کر رہا ہےتصویر: Nasa/ZUMA/IMAGO

انسان بردار مشن، خطرے سے بھرپور

انسانی مشن ہمیشہ انتہائی خطرات سے بھرپور ہوتا ہے۔ خلا میں تابکاری کی شدت، تکنیکی ناکامی کا خطرہ، لمبا سفر اور واپسی کے مسائل، سبھی نے چاند پر دوبارہ مشن بھیجنے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ جب تک ٹیکنالوجی میں خاطر خواہ بہتری نہ آ جائے، انسان کو دوبارہ اس سفر پر بھیجنا محفوظ نہ سمجھا گیا۔

اس دوران ٹیکنالوجی بہتر سے بہترین ہوتی چلی گئی، تاہم بجٹ بھی بڑھتا چلا گیا۔

اب نصف صدی بعد دنیا ایک نئی خلائی دوڑ کے دہانے پر کھڑی ہے۔ امریکہ کا آرٹیمس پروگرام، چین اور روس کے مشترکہ منصوبے، بھارت کی بڑھتی ہوئی خلائی کامیابیاں، یہ سب ثابت کرتے ہیں کہ چاند ایک بار پھر انسانی دلچسپی کا مرکز بن چکا ہے۔ آرٹیمس پروگرام کے تحت آنے والے چند برسوں میں انسان کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اور اس بار نہ صرف واپسی کا سفر ہو گا بلکہ چاند پر مستقل انسانی موجودگی کے منصوبے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی، نئی سیاسی ضروریات اور خلا کی بڑھتی ہوئی معاشی اہمیت چاند کو پھر ایک ترجیح بنا رہی ہیں۔

خلا باز بننے کے لیے کن صلاحیتوں کی ضرورت ہے؟

02:47

This browser does not support the video element.

ایک صبر آزما وقفہ

امریکی سائنسی جریدے سائٹیفک امیریکن کے مطابق1972 سے آج  تک کا یہ طویل وقفہ اگرچہ حیران کن معلوم ہوتا ہے لیکن سیاسی حالات، مالی ترجیحات، سائنسی حکمتِ عملی اور تکنیکی مشکلات نے اسے ناگزیر بنا دیا۔ مگر آج انسان ایک بار پھر اسی سوال سے روبرو ہے، کیا ہم دوبارہ چاند پر قدم رکھنے کے لیے تیار ہیں؟ اور کیا اگلی بار کا سفر صرف علامتی ہوگا یا انسانیت کے مستقبل کا نیا دروازہ کھول دے گا؟

چاند کیوں اتنے طویل عرصے تک چاند پر نہیں گیا؟ یہ سوال اپنی جگہ مگر یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ چاند تک کا سفر کبھی ختم نہیں ہوا، یہ فقط وقفہ تھا اور یہ وقفہ جلد ختم ہونے والا ہے بلکہ یہ منصوبے بھی بنائے جا رہے ہیں کہ چاند کو نظام شمسی کے دیگر سیاروں تک پہنچنے کے لیے ایک لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کیا جائے۔

 

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں