2018 میں بھارتی معاشی ترقی کی شرح کم رہنے کا امکان
شمشیر حیدر ڈی پی اے
6 جنوری 2018
بھارت کے محکمہ شماریات نے پیش گوئی کی ہے کہ سن 2018 کے مالی سال کے دوران ملکی معاشی شرح نمو کم ہو کر 6.5 فیصد رہ جائے گی، گزشتہ برس یہ شرح 7.1 فیصد رہی تھی۔
تصویر: Reuters/D. Ismail
اشتہار
جرمن خبر رساں ڈی پی اے کے مطابق بھارت کے حکومتی محکمہ شماریات نے آئندہ برس جی ڈی پی کی شرح میں کمی کا امکان ظاہر کیا ہے۔ نئی دہلی حکومت کے مطابق سن 2018 کے مالی سال میں بھارت کی معاشی ترقی کی شرح 6.5 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران بھارت کی کم ترین سطح ہو گی۔
جمعہ پانچ جنوری کے روز بھارت کے وفاقی محکمہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اس پیشگی جائزے میں معاشی ترقی میں کمی کی وجہ دہلی حکومت کی جانب سے سن 2017 میں نافذ کردہ ٹیکس اصلاحات بتائی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اشیا اور خدمات پر نافذ کردہ ٹیکس کے چھوٹے کاروبار خاص طور پر متاثر ہوئے ہیں اور ملک میں کاروباری حلقے یہ شکایت کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ ان اصلاحات کے باعث ان کے انتظامی اخراجات میں شدید اضافہ ہوا ہے۔
بھارت اور چین کے مابین سرحدی تنازعہ کیوں؟
بھارت اور چین کے مابین سرحدی تنازعہ عشروں پرانا ہے۔ یہ تنازعہ تبت کے چین میں شامل کیے جانے سے شروع ہوا تھا۔ اس تنازعے کے اہم نکات پر ایک نظر:
تصویر: Getty Images/AFP/I. Mukherjee
طویل تنازعہ
قریب 3500 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد کی حدیں کیا ہونی چاہییں؟ اسی معاملے پر دونوں ہمسایہ ممالک نے سن 1962 میں ایک جنگ بھی لڑی لیکن کوئی تصفیہ پھر بھی نہ ہو سکا۔ ناقابل رسائی علاقے، غیر حتمی سروے اور برطانوی سامراجی دور کے نقشے نے اس تنازعے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ دنیا کی دو بڑی اقتصادی طاقتوں کے درمیان سرحد پر کشیدگی ان کے اپنے اور پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
تصویر: Getty Images
اکسائی چین
كاراكاش دریا پر سمندر سے 14 ہزار فٹ سے لے کر 22 ہزار فٹ تک کی بلندی پر موجود اکسائی چین کا زیادہ تر حصہ ویران ہے۔ 32 ہزار مربع کلومیٹر میں پھیلا یہ علاقہ پہلے ایک کاروباری راستہ تھا اور اسی وجہ سے اس کی بڑی اہمیت بھی ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ چین نے جموں کشمیر کے اکسائی چین میں اس کے 38 ہزار مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے۔
تصویر: Vogel/Bläse
اروناچل پردیش
چین دعویٰ کرتا ہے کہ میکموہن لائن کے ذریعے بھارت نے اروناچل پردیش میں اس کا 90 ہزار مربع کلومیٹر علاقہ دبا لیا ہے جبکہ بھارت اس علاقے کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔ ہمالیہ کے علاقے میں اس سرحدی تنازعے کے حل کی خاطر سن 1914 میں برٹش انڈیا اور تبت کے درمیان شملہ میں ایک کانفرنس کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/dinodia
کس نے کھینچی یہ لائن
برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ نے وہ میكموہن لائن کھینچی تھی، جس نے برطانوی بھارت اور تبت کے درمیان سرحدی علاقے کو تقسیم کر دیا تھا۔ چین کے نمائندے شملہ کانفرنس میں موجود تھے لیکن انہوں نے اس معاہدے پر دستخط کرنے یا اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تبت چینی انتظامیہ کے تحت ہے، اس لیے تبت کو دوسرے ملک کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
تصویر: Imago
بین الاقوامی سرحد
سن 1947 میں آزادی کے بعد بھارت نے میكموہن لائن کو سرکاری سرحدی لائن کا درجہ دے دیا۔ اگرچہ 1950ء میں تبت پر چینی کنٹرول کے بعد بھارت اور چین کے درمیان یہ لائن ایسی متنازعہ سرحد بن گئی تھی، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا تھا۔ چین میكموہن لائن کو غیر قانونی، نوآبادیاتی اور روایتی قرار دیتا ہے جبکہ بھارت اسے بین الاقوامی سرحد کی حیثیت دیتا ہے۔
تصویر: Reuters/D. Sagol
معاہدہ
بھارت کی آزادی کے بعد سن 1954 میں بھارت اور چین کے درمیان تبت کے علاقے میں تجارت اور نقل و حرکت کے لیے ایک معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کے بعد بھارت نے سمجھا کہ اب سرحدی تنازعے کی کوئی اہمیت نہیں رہی اور چین نے اس کی تاریخی حیثیت کو قبول کر لیا ہے۔
تصویر: picture-alliance/Bildagentur-online
چین کا موقف
چین کا کہنا ہے کہ اس متنازعہ سرحد پر بھارت کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا اور بھارت تبت پر چینی حاکمیت کو تسلیم کرے۔ اس کے علاوہ چین کا یہ بھی کہنا ہے کہ میكموہن لائن پر بیجنگ کو آج بھی تحفظات ہیں۔
تصویر: Getty Images/AFP/G. Baker
سکم
سن 1962 میں چین اور بھارت کے درمیان جنگ ہوئی۔ مہینہ بھر جاری رہنے والی اس جنگ میں چینی فوج بھارت علاقوں لداخ اور اروناچل پردیش میں بھی گھس گئی تھی۔ تاہم بعد ازاں چینی فوج حقیقی کنٹرول لائن پر واپس لوٹ گئی تھی۔ اسی مقام پر بھوٹان کی سرحد بھی ہے۔ سکم وہ آخری علاقہ ہے، جہاں تک بھارت کو رسائی حاصل ہے۔ سکم کے کچھ علاقوں پر بھوٹان کا بھی دعویٰ ہے اور بھارت اس دعوے کی حمایت بھی کرتا ہے۔
تصویر: Getty Images
مان سروَور
چین کے خود مختار علاقے تبت میں واقع مان سروَور ہندوؤں کا اہم مذہبی مقام ہے، جس کی یاترا کے لیے ہر سال ہندو وہاں جاتے ہیں۔ بھارت اور چین کے کشیدہ تعلقات کا اثر ہندوؤں کے لیے اس مقدس مقام کی یاترا پر بھی پڑا ہے۔ موجودہ تنازعہ شروع ہونے کے بعد چین نے بھارتی ہندوؤں کو وہاں مشرقی راستے سے ہو کر جانے سے روک دیا تھا۔
تصویر: Dieter Glogowski
مذاکراتی تصفیے کی کوشش
بھارت اور چین کی جانب سے گزشتہ 40 برسوں میں اس تنازعے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی بہت کوششیں کی گئیں۔ اگرچہ ان کوششوں سے اب تک کوئی خاص نتائج حاصل نہیں ہو سکے تاہم چین کئی بار کہہ چکا ہے کہ اس نے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ سرحدی تنازعے بات چیت سے حل کر لیے ہیں اور بھارت کے ساتھ یہ معاملہ بھی نمٹ ہی جائے گا۔ لیکن دوطرفہ مذاکرات کے 19 طویل ادوار کے بعد بھی اس سلسلے میں اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔
تصویر: DW
10 تصاویر1 | 10
بھارتی معیشت سے متعلق اس جائزے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس برس زراعت کے شعبے میں ترقی کی شرح گزشتہ برس کی شرح 4.9 فیصد سے کم ہر کر محض 2.1 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں پیداواری شعبے میں ترقی کی شرح میں بھی نمایاں کمی ہونے کا امکان ہے جو 7.9 فیصد سے کم ہو کر اس برس 4.6 فیصد رہ جائے گی۔
یہ امر بھی اہم ہے کہ اس جنوبی ایشیائی ملک میں مالی سال اپریل سے شروع ہو کر اگلے برس مارچ میں ختم ہوتا ہے۔ نئی دہلی کے وفاقی محکمہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ یہ پیشگی رپورٹ گزشتہ نو مہینوں کے دوران بھارتی معیشت کی صورت حال پیش نظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے۔ بھارت میں آئندہ برس کا وفاقی بجٹ اگلے ماہ پیش کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں بھارتی معاشی ترقی کی شرح کم رہنے کی پیش گوئی کے باوجود بھی بھارت دنیا میں تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں کے ممالک کی عالمی درجہ بندی میں سر فہرست رہے گا۔
جمہوری دور کے ستر برس بعد بھی بھارت کے نوابی محل کی شان و شوکت برقرار
1944ء میں کئی شاہی مہمان ’عمید بھون محل‘ کی تقریب رونمائی میں شرکت کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ پتھر سے تعمیر کیا گیا یہ شاہکار بھارت کے شمال مغربی شہر جودھ پور کی شان سمجھا جاتا یے۔
تصویر: Imago/Indiapicture
محل کا ایک حصہ ہوٹل ميں تبديل
سن 1944 کے تین سال بعد ہی بھارت برطانوی راج سے آزاد ہو گیا تھا۔ نتيجتاً ان نیم خودمختار نوابی ریاستوں کو ایک غیر یقینی مستقبل کا سامنا تھا۔ وقت کے ساتھ کئی شاہی خاندان ختم ہوگئے لیکن جس خاندان نے اس محل کو تعمیر کیا تھا وہ آج بھی جانا مانا خاندان ہے۔ اس خاندان نے محل کے ایک حصے کو ہوٹل ميں تبديل کر ديا ہے۔
تصویر: Imago/Indiapicture
عمارت کا نام مہاراجہ عمید سنگھ کے نام پر رکھا گیا
اس ہوٹل کے مینیجر مہر نواز آواری کا کہنا ہے،’’دنیا میں کتنے ایسے ہوٹل ہوں گے جہاں آپ کے قریب ہی مہاراجہ رہتا ہو۔ ہم اپنے مہمانوں کو ایسا محسوس کراتے ہیں جیسے کہ وہ بادشاہ یا ملکہ ہوں۔‘‘ اس شاندار عمارت کا نام مہاراجہ عمید سنگھ کے نام پر رکھا گیا تھا۔ یہ مارور راٹھور خاندان کے آخری بادشاہ تھے۔ اسی خاندان سے تعلق رکھنے والے قرنی سنگھ جاسول کا کہنا ہے کہ محل کی تعمیر کا آغاز سن 1929 میں شروع ہوا تھا۔
تصویر: Imago/imagebroker
بھارت میں 1971ء میں تمام شہریوں کو برابر قرار دے دیا گیا تھا
برطانوی راج سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھارت کی کئی نوابی ریاستوں نے جمہوری حکومت میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ ابتدائی طور پر انہوں نے اپنے عہدے، جائیداد اور کچھ حد تک خودمختاری اپنے پاس رکھی۔ تاہم 1971ء میں بھارتی آئین میں تبدیلی کی گئی جس کے تحت تمام شہریوں کو برابر قرار دیا گیا اور شاہی مراعات کو ختم کر دیا گیا۔ يوں ریاست کی جانب سے ايسی نوابی رياستوں کو پیسے ملنا بھی بند ہو گئے۔
تصویر: Imago/Xinhua
نوابی خاندان مشکل میں پڑ گئے تھے
مراعات ختم ہونے کے بعد اور اس بے یقینی کے ساتھ کہ وہ ایک عام شہری کی طرح کس طرح رہیں گے، کئی نوابی خاندان مشکل میں پڑ گئے تھے۔ جاسول کا کہنا ہے کہ ان نوابی خاندانوں کو جو محلات یا عمارتیں ملیں وہ ایک سفید ہاتھی کی مانند تھیں۔ ان کے پاس پیسہ نہیں تھا جس سے کہ وہ کوئی کاروبار شروع کر سکتے۔ لیکن جودھ پور کے سنگھ خاندان نے اپنی جائیداد کو اچھی طرح سنبھالا بھی اور اس کو بڑھايا بھی۔
تصویر: Imago/J. Kruse
جودھ پور شہر کی معیشت میں اس محل کا اہم کردار
مہاراجہ عمید سنگھ کا پوتا صرف چار برس کا تھا جب 1952ء میں اس کے والد کا انتقال ہو گیا۔ یہ بچہ عمید سنگھ محل اور دیگر خاندانی زمینوں کا اکلوتا وارث بن گیا۔ 1971 ء میں قانون میں تبدیلی کے بعد نوجوان سنگھ نے محل کے ایک حصے کو ہوٹل بنا دیا اور ایک حصے کو عوام کے لیے عجائب گھر بنا دیا۔ آج جودھ پور شہر کی معیشت میں اس محل کا اہم کردار ہے۔
تصویر: Imago/imagebroker
معاوضہ پانچ سو امریکی ڈالر سے لے کر بارہ ہزار امریکی ڈالر
محل میں ہی گاج سنگھ کا گھر بھی ہے اور 64 کمروں پر مشتمل ہوٹل بھی۔ اس ہوٹل میں ایک رات کی رہائش کا معاوضہ پانچ سو امریکی ڈالر سے لے کر بارہ ہزار امریکی ڈالر تک ہے۔
تصویر: Imago/imagebroker
ہزاروں مقامی افراد کو روزگار میسر
شاہی خاندان نے علاقے کی فلاح و بہبود کے لیے بھی کافی کام کیا ہے۔ پانی کے ذخائر بڑھانے کے علاوہ يہ خاندان تعلیمی اور ثقافتی فلاح و بہبود کا کام بھی کر رہا ہے۔ ان منصوبوں سے ہزاروں مقامی افراد کو روزگار ملا ہے۔