اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں اس سال پانچ سال سے کم عمر گیارہ لاکھ بچے شدید غذئی قلت کا شکارہو سکتے ہیں۔ ہسپتالوں میں بھوک اور دبلے پن کے شکار بچوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔
تصویر: JORGE SILVA/REUTERS
اشتہار
گزشتہ سال اگست میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اقوام متحدہ اور دیگر فلاحی ایجنسیوں کی جانب سے فوری ایمرجنسی پروگراموں کو نافذ کیا گیا تھا جس کے تحت لاکھوں افراد کو خوراک پہنچائی گئی۔ لیکن اب یہ تنظیمیوں بگڑتی صورتحال سے پریشان ہیں۔ ان کے پاس وسائل کم ہیں اور آبادی کی ضروریات بہت زیادہ ہیں۔
غربت میں اضافہ
اس جنگ ذدہ ملک میں غربت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اب پہلے سے کہیں زیادہ افغان شہریوں کو مدد کی ضرورت ہے۔ عالمی سطح پر یوکرین میں جاری جنگ کے باعث خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور بہت کم ممالک اس وقت افغانستان کی مالی مدد کرنے کو تیار ہیں۔
نازیہ نامی ایک افغان خاتون کا کہنا ہے کہ کہ اس کے چار بچے خوراک کی قلت کے باعث ہلاک ہو گئے۔ تیس سالہ نازیہ نے بتایا، '' میرے چاروں بچے بھوک اور غربت کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔‘‘ اس وقت نازیہ اور اس کی سات سالہ بیٹی کا علاج صوبے پروان کے ایک ہسپتال میں جاری ہے۔ دونوں کو خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کی ایجنسی یونیسیف کے مطابق اس سال افغانستان میں گیارہ لاکھ بچے شدید بھوک کا شکار ہوں گے۔ بہت زیادہ دبلہ پن غذائی قلت کی بدترین قسم ہے۔ اس بیماری میں بچے کو خوراک کی اتنی زیادہ کمی ہوتی ہے کہ اس کا مدافعتی نظام کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ انہیں دیگر بیماریاں لگنے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
افغانستان میں بے سہارا معاشرتی زوال
طالبان نے جب سے افغانستان میں حکومت سنبھالی ہے تب سے بین الاقوامی سطح پر تنہا ہو کر رہ گیا ہے۔ اس ملک کی صورت حال ابتر ہے۔ نصف آبادی فاقوں پر مجبور ہے اور حکومت خواتین کے حقوق کو محدود کرنے میں مصروف ہے۔
تصویر: Ahmad Sahel Arman/AFP
بہت کم خوراک
ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق افغانستان کی نصف آبادی کو خوراک کی شدید کمیابی کا سامنا ہے۔ لوگ بھوک اور خوراک کی دستیابی پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ لوگوں کو اب چین سے بھی امدادی خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک ترجمان کے مطابق افغانستان میں بھوک کی جو سنگین صورت حال ہے، اس کی مثال نہیں دی جا سکتی۔ ترجمان نے بھوک سے مارے افراد کی تعداد بیس ملین کے قریب بتائی ہے۔
تصویر: Saifurahman Safi/Xinhua/IMAGO
خشک سالی اور اقتصادی بحران
سارے افغانستان میں لوگوں شدید خشک سالی اور معاشی بدحالی کی سنگینی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک ماہر ایتھنا ویب کا کہنا ہے کہ ورلڈ فوڈ پروگرام بائیس ملین افغان افراد کی مدد کر چکا ہے۔ مزید امداد جاری رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کو ایک ارب تیس کروڑ درکار ہیں اور ورلڈ فوڈ پروگرام کا امداد جاری رکھنا اس پر منحصر ہے۔
تصویر: Javed Tanveer/AFP
انتظامی نگرانی سخت سے سخت تر
طالبان نے حکومت سنبھالنے کے بعد اپنے سابقہ دور کے مقابلے میں اعتدال پسندانہ رویہ اختیار کرنے کا عندیہ دیا تھا لیکن بتدریج ان کے اس دعوے کی قلعی کھلتی جا رہی ہے۔ خواتین اور لڑکیوں کو سخت تر پابندیوں کا سامنا ہے۔ انہیں سیکنڈری اسکولوں تک کی رسائی سے روک دیا گیا ہے۔ تنہا اور بغیر مکمل برقعے کے کوئی عورت گھر سے نہیں نکل سکتی ہیں۔ تصویر میں کابل میں قائم چیک پوسٹ ہے۔
تصویر: Ali Khara/REUTERS
نئے ضوابط کے خلاف احتجاج
افغانستان کے قدرے لبرل علاقوں میں نئے ضوابط کے نفاذ کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایک احتجاج بینر پر درج ہے، ’’انہیں زندہ مخلوق کے طور پر دیکھا جائے، وہ بھی انسان ہیں، غلام اور قیدی نہیں۔‘‘ ایک احتجاجی بینر پر درج ہے کہ برقعہ میرا حجاب نہیں۔
تصویر: Wakil Kohsar/AFP
ایک برقعہ، قیمت پندرہ ڈالر
کابل میں ایک برقعہ فروش کا کہنا ہے کہ خواتین کے لیے نئے ضوابط کے اعلان کے بعد برقعے کی قیمتوں میں تیس فیصد اضافہ ہوا ضرور لیکن اب قیمتیں واپس آتی جا رہی ہیں لیکن ان کی فروخت کم ہے۔ اس دوکاندار کے مطابق طالبان کے مطابق برقعہ عورت کے لیے بہتر ہے لیکن یہ کسی عورت کا آخری انتخاب ہوتا ہے۔
تصویر: Wakil Kohsar/AFP
ریسٹورانٹ میں اکھٹے آمد پر پابندی
مغربی افغانستان میں طالبان کے معیار کے تناظر میں قندھار کو لبرل خیال کیا جاتا ہے، وہاں مرد اور عورتیں ایک ساتھ کسی ریسٹورانٹ میں اکھٹے جانے کی اجازت نہیں رکھتے۔ ایک ریسٹورانٹ کے مینیجر سیف اللہ نے اس نئے حکم کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس حکم کے پابند ہیں حالانکہ اس کا ان کے کاروبار پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ سیف اللہ کے مطابق اگر پابندی برقرار رہی تو ملازمین کی تعداد کو کم کر دیا جائے گا۔
تصویر: Mohsen Karimi/AFP
بین الاقوامی برادری کا ردِ عمل
طالبان کے نئے ضوابط کے حوالے سے عالمی سماجی حلقوں نے بااثر بین الاقوامی کمیونٹی سے سخت ردعمل ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ صنعتی ممالک کے گروپ جی سیون کے وزرائے خارجہ نے ان ضوابط کے نفاذ کی مذمت کی ہے اور طالبان سے ان کو ختم کرنے کے فوری اقدامات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
تصویر: Ali Khara/REUTERS
7 تصاویر1 | 7
قندھار کے ایک ہسپتال میں گزشتہ چھ ماہ میں گیارہ سو بچوں کو ہسپتال داخل کیا گیا ان میں سے تیس بچے جانبر نہ ہو سکے۔ قندھار کے ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والی جمیلہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ اس کا آٹھ ماہ کا بچہ غذائی قلت کے باعث ہلاک ہو گیا تھا۔ ''حکومت نے ہماری کوئی مدد نہیں کی، کسی سے ہم سے یہ نہیں پوچھا کہ ہمارے پاس کچھ کھانے کو ہے یا نہیں۔‘‘
فوری مدد کی ضرورت ہے
اقوام متحدہ کی ایجنسیاں اس وقت ملک کی 38 فیصد آبادی کو بنیادی خوراک فراہم کر پا رہی ہیں۔ لیکن فنڈنگ کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ اگر امداد نہ ملی تو امدادی ایجنسیاں ملک کی صرف آٹھ فیصد آبادی کی خوراک کی بنیادی ضروریات کو پورا کر سکیں گی۔ ملک کو کم از کم 4.4 ارب ڈالر کی ضرورت ہے جس میں سے صرف 601 ملین ڈالر موصول ہوئے ہیں۔
افغانستان میں یونیسف کے نیوٹریشن پروگرام کی سربراہ میلانی گیلون کا کہنا ہے کہ صرف امدادی ایجنسیوں کے ذریعے ملک کی صورتحال بہتر نہیں ہو گی۔ ملک میں دیگر عناصر کی بہتری سے ہی عوام کی مشکلات میں کمی کی جا سکتی ہے۔