بھارتی فورسز نے شہریوں کو عسکریت پسند سمجھ کر ہلاک کر دیا
5 دسمبر 2021
بھارتی ریاست ناگالینڈ میں سکیورٹی فورسز کی ایک ٹرک پر فائرنگ سے چھ شہری ہلاک ہوگئے۔ فورسز کے مطابق وہ سمجھے تھے کہ ٹرک میں عسکریت پسند سوار تھے نا کہ شہری۔ بعدازاں فورسز کی مظاہرین پر فائرنگ سے مزید سات افراد ہلاک ہوگئے۔
فائل فوٹوتصویر: picture-alliance/NurPhoto/C. Mao
اشتہار
اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے بعد شہریوں کا ہجوم احتجاج کے لیے اکٹھا ہوگیا۔ بعد ازاں مظاہرین پر بھی فائرنگ کی گئی۔ ناگالینڈ کے پولیس افسر سندیپ تامگاڑگے نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ ہفتے کے روز بھارت اور میانمار کی سرحد کے قریب پیش آیا۔ انہوں نے تیرہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جس میں ایک مقامی مزدور بھی شمال ہے۔ ''پورے مون ضلع میں اس وقت حالات بہت کشیدہ ہیں۔ ‘‘
سکیورٹی فورسز کی دو گاڑیاں نذر آتش
تامگاڑگے نے کہا کہ چھ مزدور اوٹنگ گاؤں میں اپنے گھروں کو لوٹتے ہوئے سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔ فوجی دراصل اسی راستے پر عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے پہلے ہی گھات لگائے ہوئے تھے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے ان مزدوروں کو عسکریت پسند سمجھا گیا اور ان پر فائرنگ کر دی گی۔ جب یہ مزدور گھر نہیں پہنچے تو ان کے رشتہ داروں نے ان کی تلاش شروع کر دی اور لاشیں ملنے پر انہوں نے سکیورٹی فورسز سے معاملے کی پوچھ گچھ کی۔
بتایا گیا ہے کہ ناراض علاقہ مکینوں نے سکیورٹی فورسز کی دو گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ اسی دوران سکیورٹی فورسز کی مشتعل افراد پر فائرنگ سے سات افراد ہلاک ہو گئے۔
تامگاڑگے نے فائرنگ کے مقام سے بتایا، ''یہ وہ جگہ ہے جہاں دونوں فریقوں کے درمیان تصادم ہوا، اور سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی، جس سے مزید سات افراد ہلاک ہو گئے۔‘‘
روہنگیا بھارت میں بھی چین سے جینے سے محروم ہیں
بھارتی دارالحکومت دہلی میں مقیم روہنگیا پناہ گزينوں کا کہنا ہے کہ اتوار کی شام بعض افراد نے کیمپ نہ خالی کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ پھر رات کو اچانک آگ لگنے سے ان کا کیمپ جل کر خاک ہو گيا۔
تصویر: Badar Ali
چھت سے پھر محروم
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے جنوب مشرقی علاقے مدن پور کھادر میں روہنگیاہ پناہ گزینوں کا یہ کیمپ اتوار کی شب آگ لگنے سے جل کر خاک ہو گیا۔ یہاں کی جھونپڑیوں میں 53 روہنگيا خاندان آباد تھے اور آگ لگنے کی وجہ سے ڈھائی سے سو زیادہ پناہ گزین اب بغیر چھت کے ہیں۔
تصویر: Badar Ali
سب برباد ہو گیا
روہنگیا پناہ گزین کے مطابق اب متاثرہ افراد عارضی طور پر ذکوۃ فاؤنڈیشن کے ایک پلاٹ میں مقیم ہیں،’’اب ہمارے پاس نہ تو کچھ کھانے کو بچا ہے نہ ہی کپڑے اور پیسے ہیں۔ ہم اب دوسروں کی امداد کے منتظر رہتے ہیں۔‘‘
تصویر: Badar Ali
سرکاری اراضی
جس مقام پر یہ روہنگیا پناہ گزین آباد تھے وہ دلی کا مضافاتی علاقہ ہے اور وہ سرکاری جگہ بتائی جا رہی ہے۔ بعض مقامی سیاسی شخصیات اور سماجی کارکنان نے آگ لگنے کے اس واقعے کو سازش قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ سازش نہیں ہے تو پھر دوبارہ انہیں وہاں جھگی بنانے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی ہے۔
تصویر: Badar Ali
رات کی تاریکی میں آگ
اس کیمپ کے متاثرہ افراد پہلے یہاں سے نصف کلومیٹر کے فاصلے پر مقیم تھے۔ چند برس قبل اس کیمپ میں بھی رات کی خاموشی میں اسی طرح آگ لگی تھی اور سب کچھ جل کر خاک ہو گیا تھا۔ اس کے بعد پناہ گزينوں نے اس مقام پر جھگیاں تعمیر کیں جو اب پھر آگ کی نذر ہو گئی ہیں۔
تصویر: Badar Ali
جان سے مارنے کی دھمکی
روہنگیا پناہ گزین کے مطابق، عشاء کے وقت چند لوگ وہاں آئے اور روہنگیا پناہ گزینوں کو دھمکی دی اور کہا،’’ اگر تم لوگ اس جگہ کو خالی نہیں کرتے تو تمہاری جان کو خطرہ لاحق ہے۔ اس دھمکی کے تقریباً تین گھنٹوں کے بعد اسے جلا دیا گيا۔"
تصویر: Badar Ali
سازش کا الزام
اسی متاثرہ کیمپ کے پاس بسنے والے ایک اور روہنگيا کارکن کا کہنا ہے یہ آگ ایک سازش کا نتیجہ ہے۔ ڈی ڈبلیو سے خاص بات چیت میں انہوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ جس نے بھی یہ کیا ہے وہ طاقت ور لوگ ہیں اور اگر ان کے پیچھے اقتدار کی طاقت نہیں ہے تو وہ اس طرح کھلے عام دھمکی کیسے دے سکتے ہیں۔
تصویر: Badar Ali
خوف و ہراس
گزشتہ چند مہینوں کے دوران بھارت کے متعدد علاقوں میں رہنے والے روہنگیا مسلمانوں کو پکڑ کر انہیں حراستی مراکز میں منتقل کرنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے روہنگیا برادری میں زبردست خوف و ہراس کا ماحول ہے۔
تصویر: Badar Ali
زندگی اجیرن
شناختی دستاویزات نہ ہونے والے بیشتر پناہ گزينوں کو حراستی مراکز یا جیلوں میں رکھا گيا ہے۔ حراست میں لیے جانے والے ایسے یشتر افراد کے چھوٹے چھوٹے بچے اور بیویاں ہیں، جن کی زندگی اب اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔
تصویر: Badar Ali
ہولڈنگ سینٹر
کچھ دن پہلے پولیس نے دہلی اور جموں و کشمیر میں رہنے والے ایسے پناہ گزینوں کو یہ کہہ کر حراست میں لینے کا سلسلہ شروع کیا تھا کہ ان کے پاس مناسب دستاویزات نہیں ہیں۔ جموں میں حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسے 155 روہنگیا مسلمانوں کو ہولڈنگ سینٹر میں بھیجا ہے، جن کے پاس نہ تو پاسپورٹ ہیں اور نہ ہی یو این ایچ سی آر کی جانب سے جاری کیا جانے والا کوئی شناختی کارڈ۔
تصویر: Badar Ali
آخر روہنگیا کی جھگیاں ہی کیوں؟
روہنگیا پناہ گزین نے ڈی ڈبلیو اردو کو مزید بتایا کہ اس پورے علاقے میں ایسی مزید کئی کچی بستیاں یا جھگیاں ہیں، جن میں بہت سے مقامی لوگ رہتے ہیں،’’تاہم آگ ہمیشہ ہم پناہ گزینوں کی جھگیوں میں ہی لگتی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ پناہ گزینوں کو بھگانے کی ایک سازش ہے۔‘‘
تصویر: Badar Ali
چودہ ہزار کے لگ بھگ روہنگیا
حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق جموں اور سانبہ کے علاقے میں تقریباﹰ پونے چودہ ہزار روہنگیا مسلمان اور بنگلہ دیش سے آنے والے افراد رہتے ہیں۔ بھارتی حکومت نے پارلیمان میں ان کے ڈیٹا سے متعلق اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ملک بھر میں ان کی تعداد تقریبا چالیس ہزار ہے۔
تصویر: Badar Ali
11 تصاویر1 | 11
بھارتی فوج کا مؤقف
بھارتی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ وہ 'جامع انٹیلجنس‘ کی بنیاد پر علاقے میں سرگرم باغیوں کا تعاقب کر رہی تھی۔ بھارتی فوج کا مزید کہنا تھا کہ اس واقعے میں سکیورٹی فورسز کا ایک رکن ہلاک اور دیگر زخمی ہوگئے۔ بھارتی فوج کے مطابق اس واقعے میں جانوں کے ضیاع کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ''قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے گی۔‘‘
علاوہ ازیں ناگالینڈ کے وزیر اعلیٰ نے شہریوں کو پر امن رہنے کی اپیل کی ہے اور واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا۔ انہوں نے ٹویٹر پر کہا، ''اوٹنگ، مون میں شہریوں کی ہلاکت کا افسوسناک واقعہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ تمام طبقات سے پر امن رہنے کی اپیل کی جاتی ہے۔‘‘