انٹرنیٹ کے ذریعے رابطوں اور معلومات تک رسائی کے معاملے میں انقلابی پیشرفت، ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو کی تیاری کے حوالے سے تحقیقی کام کا اعلان 30 برس قبل یعنی 30 اپریل 1993ء کو کیا گیا تھا اور اسی دن کی اس کی بنیاد پڑی۔
تصویر: DB CERN Genf/dpa/picture alliance
اشتہار
ورلڈ وائیڈ ویب کا آغاز ہوا کیسے؟
سوئٹزرلینڈ میں قائم نیوکلیئر تحقیق کے ادارے سرن میں کام کرنے والے برطانوی ماہر طبیعات برنرز لی اس ریسرچ سینٹر کے مختلف اداروں اور پراجیکٹس کے درمیان رابطہ کاری سے ناخوش تھے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے انہوں نے اپنے خیال کو ایک مختصر تحریری متن کے طور پر اپنے شعبہ کے سربراہ کو پیش کیا جنہوں نے اسے ’غیر واضح مگر دلچسپ‘ قرار دیا۔
بظاہر اس غیر واضح خیال کی تکمیل کے لیے برنرز لی نے کام جاری رکھا اور بتدریج وہ تمام ضروری طریقہ کار تشکیل پانے لگے جو سب مل کر ورلڈ وائیڈ ویب کی شکل میں سامنے آئے۔ ان میں ویب ایڈریس کے لیے یو آر ایل تیار کی گئیں، پیجز اور اولین ویب براؤزر کی تیاری کے لیے HTML بنائی گئی۔
اس تمام کام کا نتیجہ 30 اپریل 1993ء کو عوامی طور پر سامنے آیا اور سرن کے ماہرین نے ورلڈ وائیڈ ویب کو لانچ کیا جو انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک نئے انقلاب کو نقطہ آغاز ثابت ہوا۔
انٹرنیٹ کے موجد ٹِم بیرنرز لِی سے ملیے
05:59
This browser does not support the video element.
یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ورلڈ وائیڈ ویب انٹرنیٹ نہیں ہے بلکہ یہ انٹرنیٹ کے ذریعے استعمال ہونے والی ایک آن لائن ایپلیکشن ہے۔ انٹرنیٹ اصل میں 1960ء کی دہائی سے ترقی کی منازل طے کر رہا تھا۔
دنیا کا اولین ورلڈ وائیڈ ویب پیج اور برنرز لی
30 برس قبل برنرز لی نے جو اولین ویب سائٹ لانچ کی وہ آج بھی آن لائن موجود ہے۔ اس ویب سائٹ کا ایڈریس ہے: http://info.cern.ch/hypertext/WWW/TheProject.html
اس لنک کے ذریعے آپ ماضی میں سفر کر سکتے ہیں اور اس عوامی سطح پر دستیاب اس اولین ویب سائٹ پر موجود ایک لنک کے ذریعے آپ ان سب افراد کے بارے میں بھی معلومات حاصل کر سکتے ہیں جو اس پراجیکٹ کا حصہ تھے۔ اس ویب سائٹ پر برنرز لی سے اس وقت رابطے کی معلومات بھی موجود ہے۔
SMS کی 25 ویں سالگرہ
25 برس قبل آج ہی کے دن یعنی تین دسمبر 1992 کو اولین ایس ایم ایس بھیجا گیا تھا۔ موبائل کمپنیوں نے ایس ایم ایس کے ذریعے اربوں روپے کمائے۔ لاتعداد انٹرنیٹ ایپلیکیشنز کے باوجود مختصر SMS آج بھی اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔
تصویر: picture-alliance/Maule/Fotogramma/ROPI
ایس ایم ایس کی دنیا
تین دسمبر 1992ء کو 22 سالہ سافٹ ویئر انجینیئر نائل پاپورتھ نے دنیا کا پہلا ایس ایم ایس پیغام اپنے ساتھی رچرڈ جاروِس کو ارسال کیا تھا۔ نائل پاپورتھ ووڈا فون کے لیے شارٹ میسیج سروس کی تیاری پر کام کر رہے تھے۔
تصویر: DW/Brunsmann
’’میری کرسمس‘‘
25 سال پہلے کے سیل فون بھی ایس ایم ایس بھیج یا وصول نہیں کرسکتے تھے۔ لہٰذا پہلے ایس ایم ایس کو موبائل فون سے نہیں بلکہ کمپیوٹر سے بھیجا گیا تھا۔ ایس ایم ایس سسٹم کے پروٹوٹائپ کا ٹیسٹ کرنے کے لیے ووڈا فون کمپنی کے تکنیکی ماہرین کا پہلا ایم ایم ایس تھا، ’’میری کرسمس‘‘.
تصویر: Fotolia/Pavel Ignatov
160 کریکٹرز کی حد
ایس ایم ایس پوسٹ کارڈ وغیرہ پر پیغامات لکھنے کے لیے 160 حروف یا اس سے بھی کمی جگہ ہوتی تھی اسے باعث ایس ایم ایس کے لیے بھی 160 حروف کی حد مقرر کی گئی تھی۔
تصویر: DW
ٹیلیفون کمپنیوں کی چاندی
1990ء کے وسط میں، ایس ایم ایس تیزی سے مقبول ہوا اور اس کے ساتھ، ٹیلی فون کمپنیوں نے بڑا منافع حاصل کیا۔ 1996ء میں جرمنی میں 10 ملین ایس ایم ایس بھیجے گئے تھے۔ 2012 میں، ان کی تعداد 59 ارب تک پہنچ گئی۔ جرمنی میں، ایس ایم ایس بھیجنے کے 39 سینٹ تھے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/H. Kaiser
اسمارٹ فونز
اسمارٹ فون مارکیٹ میں آنے کے بعد، ایس ایم ایس نے کی مقبولیت میں کمی ہونے لگی۔ ایسا 2009 میں شروع ہوا۔ ٹوئیٹر، فیس بک، زوم، واٹس ایپ جیسے مفت پیغامات بھیجنے والی ایپلیکیشنز زیادہ سے زیادہ مقبول ہو رہی ہیں۔ مگر اس سب کے باجود ایس ایم ایس کا وجود اب بھی قائم ہے۔
تصویر: Fotolia/bloomua
اعتماد کا رابطہ
ایس ایم ایس ابھی بھی جرمنی میں مقبول ہے۔ وفاقی مواصلات ایجنسی کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2016ء کے دوران 12.7 بلین ایس ایم ایس پیغامات موبائل فونز سے بھیجے گئے۔ جرمنی میں اب بھی میل باکس کے پیغامات اور آن لائن بینکنگ سے متعلق بہت سے اہم کوڈ ایس ایم ایس کے ذریعہ ہی بھیجے جاتے ہیں۔
تصویر: Fotolia/Aaron Amat
6 تصاویر1 | 6
جب یہ ویب سائٹ لانچ کی گئی اس وقت برنرز لی کا ٹیلی فون ایکسٹنشن 3755 تھا اور ان کا ای میل ایڈریس تھا timbl@info.cern.ch۔
تاہم اس وقت برنرز لی امریکہ کے میساچیوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) میں پروفیسر ہیں۔ اس وقت سے اب تک وہ ورلڈ وائیڈ ویب کنسورشیم کے سربراہ بھی ہیں جسے ورلڈ وائیڈ ویب کے حوالے سے ٹیکنیکس کو اسٹینڈرائیڈ کرنے کے لیے قائم کیا گیا۔